12 جون 2015 - 02:14
امریکی صدر اوباما شیعہ مسلمان ہیں، سابق عراقی رکن پارلیمنٹ کا دعویٰ

امریکی اور خلیجی میڈیا کے مطابق ایک سابق عراقی رکن پارلیمنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر براک اوباما شیعہ ہے اس لئے اس کے ایران سے اچھے تعلقات ہیں، اوباما کا درمیانی نام ’حسین ‘ ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ شیعہ مسلمان ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق عراقی رکن پارلیمنٹ نے اوباما کو شیعہ ثابت کرنے کے لئے غیر معمولی وضاحت پیش کی، جس میں اس نے ثابت کرنے کی کوشش کی اوباما ایران کی طرف ہمدردانہ رجحان کیوں رکھتا ہے۔ اپنے والدین کے شیعہ پس منظر کی وجہ سے اوباما ایران کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے۔
امریکی قارئین کو یہ بات صدمے سے دوچار کرسکتی ہے۔ اوباما کے صدارتی انتخابات سے قبل بھی ان کے مسلمان ہونے کی افواہیں زیر گردش رہی، ان کے والد کو مسلمان بیان کیا گیا اور کہا گیا کہ اوباما نے انڈونیشیا میں ایک بنیاد پرست اسلامی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ گزشتہ برس ایک سروے کے مطابق 54فیصد ری پلیکن یہ سمجھتے ہیں کہ اوباما مسلمان ہیں۔ حال ہی میں ایک شامی مصنف نے لندن کے ایک ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں نہیں بھولنا چاہیے اور میں کسی نظریے کے پیچھے نہیں مگر باراک اوباما ایک شیعہ کینیائی باپ کا بیٹا ہے۔ خلیجی اخبار ’العربیہ‘ کے مطابق سابق عراقی رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ اسے یقین ہے کہ امریکی صدر براک اوباما ایک شیعہ باپ اور ماں کے گھر پروان چڑھے۔ ان کے خاندان کے شیعہ ہونے کی وجہ وہ ایران کی مدد کرتے ہیں۔ ایک عربی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے طحیٰ الحیبی نے کہا کہ اوباما شیعہ باپ کے گھر میں پروان چڑھے۔ اوباما کے والد حسین اور ان کی والدہ شیعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اوباما کا درمیانی نام حسین ہے جو اس کے پس منظر کا مزید ثبوت ہے، اس لئے وہ ایرانی شیعہ کا ساتھ دے رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169